السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَهْزٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي بَعْضِ وَادِي الرَّوْحَاءِ وَجَدَ النَّاسُ حِمَارَ وَحْشٍ عَقِيرًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ذَرُوهُ حَتَّى يَأْتِيَ صَاحِبُهُ " فَأَتَى الْبَهْزِيُّ وَكَانَ صَاحِبَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْأَبْوَاءِ فَإِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ وَفِيهِ سَهْمٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُقِيمُ عِنْدَهُ حَتَّى يُجِيزَ النَّاسَ عَنْهُ.عمیر بن سلمہ بہز قبیلہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نکلے، مکہ کا ارادہ تھا۔ جب وادی روحا میں آئے تو لوگوں نے ایک نیل گائے زخمی دیکھی۔ انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ، اس کا زخمی کرنے والا آ ہی جائے گا۔“ تو بہزی آ گئے، جنہوں نے زخمی کیا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ حالانکہ وہ محرم تھے، پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ابواء نامی جگہ آ گئے۔ اچانک ہرن درخت کے سائے کے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ اس میں تیر بھی تھا۔ آپ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اس کے پاس ٹھہر جائے تاکہ لوگ گزر جائیں۔