السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يأكل المحرم من الصيد باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، قَالَ: فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي بِهِ فَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ، فَقُمْتُ إِلَى فَرَسِي فَأَسْرَجْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُهُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقَالُوا: لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا وَرَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ أَجُرُّهُ قَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَّأْتُ الْعَضُدَ مَعِي فَأَدْرَكَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَكَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى تَعَرَّقَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ.عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ کے راستے پر بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ ہمارے آگے تھے۔ لوگ حالتِ احرام میں تھے اور میں محرم نہ تھا۔ لوگوں نے نیل گائے دیکھی اور میں اپنی جوتی سی رہا تھا۔ انہوں نے مجھے اطلاع نہ دی۔ میں نے اچانک دیکھا تو میں اپنے گھوڑے کی طرف کھڑا ہوا اور زین کسی اور سوار ہو گیا اور اپنے کوڑے اور نیزے کو بھول گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا کوڑا اور نیزہ پکڑا دو۔ انہوں نے کہا: ہم تیری کچھ بھی مدد نہ کریں گے۔ میں نے نیچے اتر کر پکڑ لیا اور مضبوطی سے سوار ہوا۔ میں نے اس کو قتل کر دیا اور کھینچ کر اس کو لے کر آیا وہ مر گئی۔ وہ اس میں واقع ہو گئے۔ اس کو کھا رہے تھے۔ پھر ان کو اپنے کھانے میں شک گزرا؛ کیونکہ وہ محرم تھے۔ ہم چلے اور میں نے اس کا ایک بازو چھپا لیا۔ ہم نبی ﷺ تک جا پہنچے اور اس کے بارے میں سوال کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز اس سے ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ ﷺ کو اس کا بازو دیا تو آپ ﷺ نے کھا لیا؛ حالانکہ آپ ﷺ حالتِ احرام میں تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ہڈی سے گوشت کو اتارا۔