حدیث نمبر: 9908
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ مَعَ أَصْحَابِي فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَكُ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ فَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ يَعْنِي فَانْطَلَقْتُ أَرْفَعُ فَرَسِي فَأَطْلُبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ مِنْ غِفَارٍ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: بِالسُّقْيَا يَعْنِي فَلَحِقْتُ بِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، وَقَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ: " " كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ " " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حدیبیہ والے سال نبی ﷺ کے ساتھ چلے۔ میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا جبکہ میں محرم نہ تھا۔ نبی ﷺ چلے اور میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا۔ وہ ایک دوسرے کو ہنسا رہے تھے۔ میں نے دیکھا، اچانک نیل گائے تھی۔ میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور اپنی سواری پر بیٹھ گیا، میں نے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے کھایا اور ہم ڈر بھی گئے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا اور نبی ﷺ تک پہنچ گیا، میں غفار قبیلہ کے ایک شخص کو نصف رات کو ملا۔ میں نے کہا: آپ نے نبی ﷺ کو کہاں چھوڑا؟ اس نے کہا: ”سقیا“ نامی جگہ پر میں آپ ﷺ سے ملا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ پر سلام کہتے ہیں اور وہ ڈر محسوس کر رہے ہیں کہ کہیں آپ ﷺ کے بغیر ان کو نقصان نہ ہو جائے، آپ ﷺ ان کا انتظار کر لیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے نیل گائے پکڑی، اس کا کچھ زائد گوشت میرے پاس موجود بھی ہے، آپ ﷺ نے لوگوں سے کہا: ”کھاؤ۔“ حالانکہ وہ حالتِ احرام میں تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9908
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1725»