السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من عدل صيام يوم بمدين من طعام باب: ان کا بیان جنہوں نے ایک دن کے روزے کو کھانے کے دو مد کے برابر قرار دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي ⦗٣٠٥⦘ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ شَيْئًا مِنَ الصَّيْدِ حُكِمَ عَلَيْهِ فِيهِ، فَإِنْ قَتَلَ ظَبْيًا أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ شَاةٌ تُذْبَحُ بِمَكَّةَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَإِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَإِنْ قَتَلَ أَيْلًا أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ بَقَرَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَطْعَمَ عِشْرِينَ مِسْكِينًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَامَ عِشْرِينَ يَوْمًا، وَإِنْ قَتَلَ نَعَامَةً أَوْ حِمَارَ وَحْشٍ أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ بَدَنَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ أَطْعَمَ ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَامَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، وَالطَّعَامُ مُدٌّ مُدٌّ شِبَعَهُمْ " وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ وَمَا قَبْلَهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ عِنْدَهُ عَلَى التَّرْتِيبِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.ابوطلحہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب محرم کسی شکار کو قتل کرے تو اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے، اگر اس نے ہرن یا اس کی مثل کو قتل کیا ہے تو محرم کے ذمہ بکری ہے جو مکہ میں ذبح کرے گا۔ اگر محرم بکری نہ پائے تو پھر چھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے، اگر کھانا بھی موجود نہ ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنے ہیں۔ اگر وہ بارہ سنگھا یا اس کی مثل کو قتل کرتا ہے تو پھر محرم کے ذمہ گائے ہے، اگر گائے موجود نہ ہو تو پھر بیس مسکینوں کا کھانا ہے، اگر کھانا میسر نہ ہو تو پھر بیس دنوں کے روزے ہیں۔ اگر اس نے شتر مرغ یا نیل گائے یا اس کی مثل چیز کو قتل کر دیا تو پھر محرم کے ذمہ اونٹ کی قربانی ہے، اگر نہ پائے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے، اگر کھانا نہ ہو تو تیس ایام کے روزے رکھنا ہے اور کھانا ایک ایک مد ان کی سیرابی یا پیٹ کا بھرنا ہے، یہ اور اس سے پہلے والی روایات ترتیب کا تقاضا کرتی ہیں۔