کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے ایک دن کے روزے کو کھانے کے دو مد کے برابر قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9898
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَكَرِيَّا الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} [المائدة: ٩٥] قَالَ: " إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّيْدَ يُحْكَمُ عَلَيْهِ جَزَاؤُهُ، فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ ذَبَحَهُ وَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ قُوِّمَ جَزَاؤُهُ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قُوِّمَتِ الدَّرَاهِمُ طَعَامًا، فَصَامَ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا، وَإِنَّمَا أُرِيدَ بِالطَّعَامِ الصِّيَامُ أَنَّهُ إِذَا وَجَدَ الطَّعَامَ وَجَدَ جَزَاءَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
مقسم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ [سورة المائدة: 95] کے متعلق روایت کی: ”پس بدلہ ہے اسی کے مانند جو اس نے چوپایوں میں سے شکار کو قتل کیا ہے۔“
جب محرم آدمی شکار کر لے تو اس کے خلاف اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے پاس اس کا بدلہ اور مثل موجود ہو تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت صدقہ کر دے۔ اگر اس کے پاس اس کا بدل اور مثل موجود نہ ہو تو درہموں میں اس کی قیمت مقرر کی جائے۔ پھر کھانے کی قیمت لگائی جائے۔ پھر وہ نصف صاع کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے۔ طعام سے میرا ارادہ روزے کا تھا۔ جب اس نے کھانا پا لیا تو اس نے اس کا بدلہ بھی پا لیا۔
جب محرم آدمی شکار کر لے تو اس کے خلاف اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے پاس اس کا بدلہ اور مثل موجود ہو تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت صدقہ کر دے۔ اگر اس کے پاس اس کا بدل اور مثل موجود نہ ہو تو درہموں میں اس کی قیمت مقرر کی جائے۔ پھر کھانے کی قیمت لگائی جائے۔ پھر وہ نصف صاع کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے۔ طعام سے میرا ارادہ روزے کا تھا۔ جب اس نے کھانا پا لیا تو اس نے اس کا بدلہ بھی پا لیا۔
حدیث نمبر: 9899
وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مِقْسَمًا فِي الَّذِي يُصِيبُ الصَّيْدَ لَا يَكُونُ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ، قَالَ: " يُقَوَّمُ الصَّيْدُ دَرَاهِمَ وَتُقَوَّمُ الدَّرَاهِمُ طَعَامًا فَيَصُومُ لِكُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا " قَالَ شُعْبَةُ: وَقَالَ لِي أَبَانُ، وَأَبُو مَرْيَمَ: إِنَّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَعْنِي أَبَانَ بْنَ تَغْلِبَ، كَذَا فِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ يُقَوَّمُ الصَّيْدُ، وَفِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ يُقَوَّمُ الْجَزَاءُ، وَمَنْصُورٌ أَحْسَنُهُمَا سِيَاقَةً لِلْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ عَدَلَ فِي الْجَزَاءِ إِذَا كَانَتْ شَاةً صِيَامَ يَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْكِينَيْنِ، فَإِذَا كَانَتْ بَدَنَةً أَوْ بَقَرَةً صِيَامَ يَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ، وَقَالَ: مُدٌّ مُدٌّ.
حافظ ثناء اللہ
حَکَم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مِقْسَم رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سنا جو شکار کر لیتا ہے لیکن اس کا بدلہ نہیں پاتا، اس پر شکار کی قیمت مقرر کی جائے گی درہموں میں اور درہموں سے کھانا خریدا جائے گا، یعنی اس کی قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ ہر نصف صاع کے عوض روزہ رکھے گا۔
(ب) شعبہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ شکار کی قیمت لگائی جائے۔
(ج) منصور رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ اس کے بدلہ یا «مِثْل» کی قیمت لگائی جائے۔
(د) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ برابر ہو «مِثْل» کے یا بدلہ کے، جب بکری ہو تو ایک دن کا روزہ دو مسکینوں کے کھانے کے عوض ہے، لیکن جب اونٹ یا گائے ہو تو ایک دن کا روزہ ایک مسکین کے کھانے کے عوض۔ فرماتے ہیں: وہ «مُدّ»، «مُدّ» ہوا کرتا ہے۔
(ب) شعبہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ شکار کی قیمت لگائی جائے۔
(ج) منصور رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ اس کے بدلہ یا «مِثْل» کی قیمت لگائی جائے۔
(د) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ برابر ہو «مِثْل» کے یا بدلہ کے، جب بکری ہو تو ایک دن کا روزہ دو مسکینوں کے کھانے کے عوض ہے، لیکن جب اونٹ یا گائے ہو تو ایک دن کا روزہ ایک مسکین کے کھانے کے عوض۔ فرماتے ہیں: وہ «مُدّ»، «مُدّ» ہوا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 9900
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي ⦗٣٠٥⦘ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ شَيْئًا مِنَ الصَّيْدِ حُكِمَ عَلَيْهِ فِيهِ، فَإِنْ قَتَلَ ظَبْيًا أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ شَاةٌ تُذْبَحُ بِمَكَّةَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَإِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَإِنْ قَتَلَ أَيْلًا أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ بَقَرَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَطْعَمَ عِشْرِينَ مِسْكِينًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَامَ عِشْرِينَ يَوْمًا، وَإِنْ قَتَلَ نَعَامَةً أَوْ حِمَارَ وَحْشٍ أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ بَدَنَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ أَطْعَمَ ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَامَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، وَالطَّعَامُ مُدٌّ مُدٌّ شِبَعَهُمْ " وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ وَمَا قَبْلَهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ عِنْدَهُ عَلَى التَّرْتِيبِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوطلحہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب محرم کسی شکار کو قتل کرے تو اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے، اگر اس نے ہرن یا اس کی مثل کو قتل کیا ہے تو محرم کے ذمہ بکری ہے جو مکہ میں ذبح کرے گا۔ اگر محرم بکری نہ پائے تو پھر چھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے، اگر کھانا بھی موجود نہ ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنے ہیں۔ اگر وہ بارہ سنگھا یا اس کی مثل کو قتل کرتا ہے تو پھر محرم کے ذمہ گائے ہے، اگر گائے موجود نہ ہو تو پھر بیس مسکینوں کا کھانا ہے، اگر کھانا میسر نہ ہو تو پھر بیس دنوں کے روزے ہیں۔ اگر اس نے شتر مرغ یا نیل گائے یا اس کی مثل چیز کو قتل کر دیا تو پھر محرم کے ذمہ اونٹ کی قربانی ہے، اگر نہ پائے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے، اگر کھانا نہ ہو تو تیس ایام کے روزے رکھنا ہے اور کھانا ایک ایک مد ان کی سیرابی یا پیٹ کا بھرنا ہے، یہ اور اس سے پہلے والی روایات ترتیب کا تقاضا کرتی ہیں۔