السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من عدل صيام يوم بمدين من طعام باب: ان کا بیان جنہوں نے ایک دن کے روزے کو کھانے کے دو مد کے برابر قرار دیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مِقْسَمًا فِي الَّذِي يُصِيبُ الصَّيْدَ لَا يَكُونُ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ، قَالَ: " يُقَوَّمُ الصَّيْدُ دَرَاهِمَ وَتُقَوَّمُ الدَّرَاهِمُ طَعَامًا فَيَصُومُ لِكُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا " قَالَ شُعْبَةُ: وَقَالَ لِي أَبَانُ، وَأَبُو مَرْيَمَ: إِنَّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَعْنِي أَبَانَ بْنَ تَغْلِبَ، كَذَا فِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ يُقَوَّمُ الصَّيْدُ، وَفِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ يُقَوَّمُ الْجَزَاءُ، وَمَنْصُورٌ أَحْسَنُهُمَا سِيَاقَةً لِلْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ عَدَلَ فِي الْجَزَاءِ إِذَا كَانَتْ شَاةً صِيَامَ يَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْكِينَيْنِ، فَإِذَا كَانَتْ بَدَنَةً أَوْ بَقَرَةً صِيَامَ يَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ، وَقَالَ: مُدٌّ مُدٌّ.حَکَم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مِقْسَم رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سنا جو شکار کر لیتا ہے لیکن اس کا بدلہ نہیں پاتا، اس پر شکار کی قیمت مقرر کی جائے گی درہموں میں اور درہموں سے کھانا خریدا جائے گا، یعنی اس کی قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ ہر نصف صاع کے عوض روزہ رکھے گا۔
(ب) شعبہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ شکار کی قیمت لگائی جائے۔
(ج) منصور رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ اس کے بدلہ یا «مِثْل» کی قیمت لگائی جائے۔
(د) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ برابر ہو «مِثْل» کے یا بدلہ کے، جب بکری ہو تو ایک دن کا روزہ دو مسکینوں کے کھانے کے عوض ہے، لیکن جب اونٹ یا گائے ہو تو ایک دن کا روزہ ایک مسکین کے کھانے کے عوض۔ فرماتے ہیں: وہ «مُدّ»، «مُدّ» ہوا کرتا ہے۔