حدیث نمبر: 9862
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مُحْرِمًا فَرَأَيْتُ ظَبْيًا فَرَمَيْتُهُ فَأَصَبْتُ خُشَشَاءَهُ يَعْنِي أَصْلَ قَرْنِهِ فَمَاتَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ رَجُلًا أَبْيَضَ رَقِيقَ الْوَجْهِ، وَإِذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَسَأَلْتُ عُمَرَ فَالْتَفَتَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: " تَرَى شَاةً تَكْفِيهِ؟ " قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَ شَاةً فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ صَاحِبِي لِي: إنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُحْسِنْ أَنْ يُفْتِيَكَ حَتَّى سَأَلَ الرَّجُلَ فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْضَ كَلَامِهِ فَعَلَاهُ بِالدِّرَّةِ ضَرْبًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ لِيَضْرِبَنِي فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَقُلْ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ قَالَهُ فَتَرَكَنِي، ثُمَّ قَالَ: " أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّى الْفُتْيَا " ثُمَّ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: " إنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَشَرَةَ أَخْلَاقٍ، تِسْعَةٌ حَسَنَةٌ وَوَاحِدَةٌ سَيِّئَةٌ وَيُفْسِدُهَا ذَلِكَ السَّيِّئُ " ثُمَّ قَالَ: " وَإِيَّاكَ وَعَثْرَةَ الشَّبَابِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالملک بن عمیر حضرت قبیصہ بن جابر اسدی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں محرم تھا، میں نے ہرن کو دیکھا اور تیر مار دیا تو تیر کی دھار اس کو لگی وہ مر گیا، میرے دل میں اس کی وجہ سے کھٹکا محسوس ہوا۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر سوال کیا، ان کے پہلو میں سفید رنگت اور نرم چہرے والا ایک آدمی موجود تھا، وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ سوال میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے: ایک بکری کفایت کر جائے گی؟ اس نے کہا: ہاں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دے دیا، جب ہم ان کے پاس سے اٹھے تو میرے ساتھی نے مجھے کہا کہ امیر المؤمنین مسائل اچھی طرح نہیں بتا سکتے، وہ پہلے آدمی سے سوال کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی کچھ باتیں سن لیں تو کوڑے سے ان کو مارا، پھر میری طرف متوجہ ہوئے تاکہ مجھے بھی ماریں، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا، اس نے کہا جو کہا، کہتے ہیں: انہوں نے مجھے چھوڑ دیا، پھر کہا: تو حرام کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے اور فتویٰ میں ظلم چاہتا ہے۔ پھر کہا: اے امیر المؤمنین! انسان میں ۱۰ عادات ہوتی ہیں: ۹ اچھی ہوتی ہیں اور ایک بری ہوتی ہے اور یہ بری سب اچھی عادت کو بھی خراب کر دیتی ہے، پھر فرمایا کہ جوانی کی آفات سے بچو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9862
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8239»