حدیث نمبر: 9838
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَوْسٍ أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَجَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي خَمْسِينَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَعَلَيْهِ عَبَاءَتَانِ قَطَوَانِيَّتَانِ وَهُوَ يُلَبِّي: " لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ تَعَبُّدًا وَرِقًّا، لَبَّيْكَ أَنَا عَبْدُكَ أَنَا لَدَيْكَ لَدَيْكَ يَا كَشَّافَ الْكُرَبِ، قَالَ: فَجَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ " ⦗٢٨٩⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يُحْكَ لَنَا عَنْ أَحَدٍ مِنَ النَّبِيِّينَ وَلَا الْأُمَمِ الْخَالِينَ أَنَّهُ جَاءَ الْبَيْتَ أَحَدٌ قَطُّ إِلَّا حَرَامًا، وَلَمْ يَدْخُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَلِمْنَاهُ إِلَّا حَرَامًا إِلَّا فِي حَرْبِ الْفَتْحِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے پچاس ہزار آدمیوں میں حج کیا، ان کے اوپر دو روئی کی چادریں تھیں اور وہ تلبیہ پکار رہے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، تَعَبُّدًا وَرِقًّا، لَبَّيْكَ، يَا كَاشِفَ الْكُرُبَاتِ» ”اے اللہ! حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں عبادت کے اعتبار سے، اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے پاس ہوں، اے مصائب کو دور ہٹانے والے۔“ اس کا پہاڑوں نے بھی جواب دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کسی نبی یا امتی سے یہ حکایت نہیں کی گئی، جو بھی بیت اللہ میں آیا احرام کی حالت میں آیا اور رسول اللہ ﷺ جب بھی مکہ میں داخل ہوئے تو احرام کی حالت میں داخل ہوئے، سوائے فتح مکہ کے موقع پر۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9838
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»