حدیث نمبر: 9837
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " لَقَدْ سَلَكَ فَجَّ الرَّوْحَاءِ سَبْعُونَ نَبِيًّا حُجَّاجًا عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ، وَلَقَدْ صَلَّى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُونَ نَبِيًّا ".
حافظ ثناء اللہ

مقسم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ستر انبیاء علیہم السلام فجِ روحا کے راستے سے حج کے لیے چلے، انہوں نے روئی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور مسجدِ خیف میں ستر انبیاء علیہم السلام نے نماز ادا کی۔“
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر نبی نے بیت اللہ کا حج کیا، سوائے ہود اور صالح علیہما السلام کے، البتہ نوح علیہ السلام نے بھی بیت اللہ کا حج کیا تھا جب زمین پر طوفانِ نوح (یعنی سیلاب) نہیں آیا تھا، پھر جب زمین پر سیلاب آیا تو بیت اللہ کو بھی نقصان ہوا اور بیت اللہ ایک سرخ ٹیلے پر تھا۔ اللہ رب العزت نے سیدنا ہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، تو وہ اپنی قوم کے معاملے میں مصروف ہو گئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی لیکن وہ حج نہ کر سکے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جگہ عطا فرمائی تو انہوں نے حج کیا، پھر ہر نبی نے اس کا حج کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9837
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 2/ 653»