السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفسد الحج باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا، قَالَ سَعِيدٌ: إِنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ النَّاسِ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَى عَامِ قَابِلٍ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: " لِيَنْفُذَا لِوُجُوهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَا، فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا، وَإِذَا أَدْرَكَهُمَا الْحَجُّ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْيُ، وَيُهِلَّا مِنْ حَيْثُ كَانَا أَهَلَّا بِحَجِّهِمَا الَّذِي كَانَا أَفْسَدَا وَيَتَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ".یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ اس شخص کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے؟ تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک محرم آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تو اس نے ان کو مدینہ روانہ کیا کہ اس کے بارے میں سوال کرے، تو کچھ لوگوں نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک ان میں کروا دی جائے، تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی حالت پر ہی رہیں گے، لیکن وہ حج پورا کریں گے جو ان دونوں نے خراب کیا، پھر جب ان کو حج کا فریضہ پا لے تو ان پر حج اور قربانی کرنا ہے، پھر وہاں سے حج کا تلبیہ کہنا شروع کریں جہاں سے پہلے حج کا تلبیہ کہنا شروع کیا تھا، جس کو انہوں نے باطل کر دیا اور وہ دونوں جدا رہیں گے یہاں تک کہ حج مکمل کر لیں۔