السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفسد الحج باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي قَبْلَ أَنْ أَزُورَ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَتْ أَعَانَتْكَ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا نَاقَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ، وَإِنْ كَانَتْ لَمْ تُعِنْكَ فَعَلَيْكَ نَاقَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ " وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ أَنَّهُ قَالَ: " يُتِمَّانِ حَجَّهُمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَإِنْ كَانَ ذَا مَيْسَرَةٍ أَهْدَى جَزُورًا "، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ " يَفْتَرِقَانِ وَلَا يَجْتَمِعَانِ حَتَّى يَفْرُغَا مِنْ حَجِّهِمَا ".سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، یعنی مجامعت کر لی، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیری مدد کی ہے تو پھر تم دونوں پر ایک بہترین خوبصورت اونٹنی کی قربانی ہے۔ اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیرا تعاون نہیں کیا تو پھر صرف تیرے ذمہ ایک خوبصورت اور بہترین اونٹنی کی قربانی ہے۔
(ب) جابر بن زید ابو شعثاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس حج کو پورا کریں اور آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مال دار ہیں تو ایک اونٹ کی قربانی بھی کریں۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں جدا ہوں گے اور حج کو مکمل کرنے تک اکٹھے نہ ہوں گے۔