حدیث نمبر: 9754
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَقِيلَ: إِنَّهَا قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا " قِيلَ: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ: " فَلَا إِذًا " قَالَ مَالِكٌ: قَالَ هِشَامٌ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَنَحْنُ نَذْكُرُ ذَلِكَ فَلِمَ يُقَدِّمُ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ إِنْ كَانَ لَا يَنْفَعُهُمْ؟ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ الَّذِي يَقُولُ لَأَصْبَحَ بِمِنًى أَكْثَرُ مِنْ سِتَّةِ آلَافِ امْرَأَةٍ حَائِضٍ كُلُّهُنَّ قَدْ أَفَضْنَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا ذکر فرمایا تو کہا گیا کہ وہ حائضہ ہو چکی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید کہ وہ ہمیں روکنے والی ہے۔“ کہا گیا کہ اس نے افاضہ کر لیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر نہیں۔“ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم اس بات کا ذکر کرتے ہیں، اگر یہ بات ان کو فائدہ نہیں دیتی تو وہ اپنی عورتوں کو کیوں آگے بھیجتے ہیں؟ اور اگر ایسی بات ہوتی تو منیٰ میں چھ ہزار حائضہ عورتیں ہوتیں، سب افاضہ کر چکی ہوتیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9754
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5805۔ مسلم 1211»