حدیث نمبر: 9698
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بِشْرٍ الدِّهْقَانُ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، قَالَا: ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ أَصَابَهُ سِنَانُ الرُّمْحِ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ فَلَزِقَتْ أَخْمَصُ قَدَمِهِ بِالرِّكَابِ، فَنَزَلَ فَنَزَعَهَا وَذَلِكَ بِمِنًى فَبَلَغَ ذَلِكَ الْحَجَّاجَ فَأَتَاهُ يَعُودُهُ، فَقَالَ: لَوْ نَعْلَمُ مَنْ أَصَابَكَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَنْتَ أَصَبْتَنِي "، قَالَ: وَكَيْفَ؟ قَالَ: " حَمَلْتَ السِّلَاحَ فِي يَوْمٍ لَمْ يَكُنْ يُحْمَلُ فِيهِ وَأَدْخَلْتَ السِّلَاحَ الْحَرَمَ وَكَانَ السِّلَاحُ لَا يَدْخُلُ الْحَرَمُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي السُّكَيْنِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب ان کو پاؤں کے نیچے نیزے کی نوک لگی تو ان کے پاؤں کا نیچے والا حصہ رکاب میں پھنس گیا تو وہ اترے اور اس کو نکالا، یہ منیٰ کی رات تھی، یہ خبر جب حجاج کو ملی تو وہ عیادت کرنے کے لیے آیا اور کہنے لگا: کاش! ہمیں پتہ چل جائے کہ آپ کو یہ کس نے مارا ہے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو نے ہی مجھے مارا ہے۔ وہ کہنے لگا: کیسے؟ انھوں نے کہا: تو نے ایسے دن میں اسلحہ اٹھایا ہے جس دن وہ اٹھایا نہ جاتا تھا اور تو نے حرم میں اسلحہ داخل کر دیا ہے جب کہ اسلحہ حرم میں داخل نہ ہوتا تھا۔ [صحیح۔ بخاری ٩٢٣]

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9698