السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الخطبة يوم النحر وأن يوم النحر يوم الحج الأكبر باب: قربانی کے دن خطبہ دینے اور اس بات کا بیان کہ قربانی کا دن حجِ اکبر کا دن ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَرَجُلٌ أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، ⦗٢٢٨⦘ فَقَالَ: " أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، فَقَالَ: " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَأِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: " أَوَلَيْسَ ذَا الْحَجَّةِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَأِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: " أَلَيْسَتِ الْبَلْدَةَ الْحَرَامَ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا اللهُمَّ هَلْ بَلِّغْتُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں نبی ﷺ نے نحر والے دن خطبہ دیا تو فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش ہو گئے حتیٰ کہ ہم سمجھنے لگے آپ اس کو کوئی نیا نام دیں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ یومِ نحر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی نیا نام رکھیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ شہر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے خون تمہارے اس دن میں، اس مہینے میں، اس شہر کی حرمت کی طرح محترم ہیں، اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو حاضر ہے وہ غیر حاضر تک پہنچا دے، کتنے ہی وہ لوگ ہیں جن کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں، خبردار! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“