حدیث نمبر: 9613
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَبُو جَابِرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ الْجَمَرَاتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: " أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ: " فَأِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، قَالَ: " فَأِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " قَالُوا: الشَّهْرُ الْحَرَامُ، قَالَ: " هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ فَدِمَاؤُكُمْ، وَأَمْوَالُكُمْ، وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الْيَوْمِ "، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ بَلَّغْتُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ فَطَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللهُمَّ اشْهَدْ " ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ فَقَالُوا هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ: وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ جمرات کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ انہوں نے کہا: یومِ نحر، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے کہا: حرم ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ انہوں نے کہا: شہرِ حرام، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حجِ اکبر کا دن ہے، تو تمہارے خون، مال اور عزتیں تم پر اس دن میں اس شہر کی حرمت کی طرح حرام ہیں“، پھر فرمایا: ”کیا میں نے تبلیغ کردی؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ ﷺ کہنے لگے: ”اے اللہ! گواہ ہوجا“، پھر لوگوں کو الوداع کہا تو انہوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9613
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداود 1945۔ ابن ماجه 3058»