السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من لبد أو ضفر، أو عقص حلق باب: جس نے اپنے بال جمائے، یا مینڈھیاں گوندھیں، یا انہیں جوڑے کی شکل میں باندھا تو وہ اپنا سر منڈوائے۔
حدیث نمبر: 9583
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ ابْنُ سَلْمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَبَّدَ رَأْسَهُ لِلْإِحْرَامِ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْحِلَاقُ " عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ هَذَا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے احرام کے لیے سر کو لیپ کیا اس پر سر منڈانا واجب ہوگیا۔“
یہ عبداللہ بن نافع قوی نہیں ہے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، اور اسی طرح سالم نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔