السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من لبد أو ضفر، أو عقص حلق باب: جس نے اپنے بال جمائے، یا مینڈھیاں گوندھیں، یا انہیں جوڑے کی شکل میں باندھا تو وہ اپنا سر منڈوائے۔
حدیث نمبر: 9584
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللهِ، كَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " مَنْ ضَفَّرَ فَلْيَحْلِقْ لَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس نے سر کی مینڈھیاں بنائیں وہ حلق کروائے اور لیپ کی مشابہت نہ کرو، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو تلبید کی حالت میں دیکھا۔