السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من لبد أو ضفر، أو عقص حلق باب: جس نے اپنے بال جمائے، یا مینڈھیاں گوندھیں، یا انہیں جوڑے کی شکل میں باندھا تو وہ اپنا سر منڈوائے۔
حدیث نمبر: 9582
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ ضَفَّرَ رَأْسَهُ لِإِحْرَامٍ فَلْيَحْلِقْ، لَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے احرام کے لیے سر کی مینڈھیاں کیں، وہ سر منڈوائے، لیپ کی مشابہت نہ کرو۔
یہی صحیح ہے، نافع سے، وہ ابن عمر سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔