السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْمِي الْجِمَارَ مِثْلَ بَعْرِ الْغَنَمِ " وَرُوِّينَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْحَصَى مِنْ جَمْعٍ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْزِلَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِنْ حَيْثُ أَخَذَ أَجْزَأَهُ إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُهُ مِنَ الْمَسْجِدِ؛ لِئَلَّا يَخْرُجَ حَصَى الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَمِنَ الْحُشِّ؛ لِنَجَاسَتِهِ وَمِنَ الْجَمْرَةِ؛ لِأَنَّهُ حَصًى غَيْرُ مُتَقَبَّلٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا أَنَّ الْحَصَى يُنَاشِدُ الَّذِي يُخْرِجُهُ مِنَ الْمَسْجِدِ.(الف) جمیل بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بکری کی مینگنی جیسی کنکریاں مارتے دیکھا۔
(ب) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی، مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلا وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم کتاب الصلاة میں ابو صالح رحمہ اللہ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کر چکے ہیں کہ ”کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔“