السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ يَعْنِي عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " ⦗٢٠٩⦘ قَالَ الْحَجَّاجُ: وَقَالَ عَطَاءٌ: حَصَى الْخَذْفِ مِثْلُ طَرَفِ الْأُصْبُعِ، لَمْ يُثْبِتْ شَيْخُنَا أُمَّ جُنْدُبٍ، وَهِيَ أُمُّ جُنْدُبٍ قَالَهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: أُمُّهُ اسْمُهَا أُمُّ جُنْدُبٍ قُلْتُ: فَحَدِيثُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: أَرَى أَنَّ الْحَجَّاجَ أَخَذَهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَأَظُنُّهُ هُوَ حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أُمِّهِ.سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے آپ کو جمرہ عقبہ کے پاس ہلاک نہ کرو اور چھوٹی کنکریاں لازم پکڑو۔“
حجاج کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: خذف کی کنکریاں انگلی کے پور جتنی ہوتی ہیں۔
ہمارے شیخ نے ام جندب (کا نام) پختہ طور پر ذکر نہیں کیا، اور وہ ام جندب ہی ہیں، جیسا کہ احمد بن منیع نے یزید بن ہارون سے بیان کیا ہے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کی والدہ کا نام ام جندب ہے۔ میں نے کہا: تو حجاج کی حدیث؟ فرمایا: میرا خیال ہے کہ حجاج نے اسے یزید بن ابی زیاد سے لیا ہے اور میرا گمان ہے کہ یہ وہی سلیمان بن عمرو کی اپنی والدہ سے روایت کردہ حدیث ہے۔