السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْحَصَى الَّذِي يُرْمَى فِي الْجِمَارِ مُنْذُ قَامَ الْإِسْلَامُ، فَقَالَ: " مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ رُفِعَ، وَمَا لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُمْ تُرِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَسَدَّ مَا بَيْنَ الْجَبَلَيْنِ " وَرُوِّينَا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " وُكِّلَ بِهِ مَلَكٌ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُ رَفَعَ، وَمَا لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ تَرَكَ " وَعَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْعَبْسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ، عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ، فَقَالَ لِي: " مَا تُقُبِّلَ مِنْهُ رُفِعَ، وَلَوْلَا ذَلِكَ كَانَ أَطْوَلَ مِنْ ثَبِيرٍ ".ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کنکریوں کے بارے میں پوچھا جن کے ساتھ اسلام کے بعد جمروں کو مارا جاتا ہے تو انہوں نے کہا: ”جو ان میں سے قبول کی گئی اس کو اٹھا لیا گیا اور جو نہ کی گئی اس کو چھوڑ دیا گیا اور اگر یہ نہ ہوتا تو دونوں پہاڑوں کا درمیان بند ہو جاتا۔“
سفیان ثوری کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”اس پر ایک فرشتے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے، اس میں سے جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے اور جو قبول نہ ہو وہ باقی چھوڑ دیا جاتا ہے۔“
ابن ابی نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ”ان میں سے جو قبول کی جاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو یہاں یہ ثبیر پہاڑ سے بھی بلند پہاڑ بن جاتا۔“