السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
حدیث نمبر: 9540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن الاحوص ازدی رضی اللہ عنہ اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی کے درمیان سے جمروں کو مارتے ہوئے یہ کہتے سنا: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو ہلاک نہ کرو، جب تم جمرہ کو کنکریاں مارو تو چھوٹی پتھریاں مارو۔“