السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
حدیث نمبر: 9539
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جُنْدُبٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ يَقِيهِ الْحِجَارَةَ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی کے درمیان سے رمیٔ جمار کرتے دیکھا اور ایک آدمی آپ ﷺ کو پیچھے سے پتھروں سے بچا رہا تھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور جب تم جمروں کو مارو تو چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔“