السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التعريف بغير عرفات باب: میدانِ عرفات کے علاوہ کسی اور جگہ یومِ عرفہ کے اجتماع (تعریف) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9477
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَكَمَ وَحَمَّادًا عَنِ اجْتِمَاعِ النَّاسِ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي الْمَسَاجِدِ فَقَالَا: " هُوَ مُحْدَثٌ " وَعَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: هُوَ مُحْدَثٌ، وَعَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ.حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد سے عرفہ کے دن لوگوں کے مسجدوں میں جمع ہونے کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ بدعت ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بواسطہ حسن رحمہ اللہ منقول ہے کہ سب سے پہلے یہ کام ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کیا۔