السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في فضل عرفة باب: عرفہ کی فضیلت کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 9478
حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظُّفُرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحُسَيْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَاتِي، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَأُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ: " أِيُّ آيَةٍ؟ " قَالَ: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} [المائدة: ٣] فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَقَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَالْمَكَانَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ جُمُعَةٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّبَّاحِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! ایک آیت جسے آپ اپنی کتاب میں پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر اترتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے کہا: ﴿آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا ہے﴾ [سورة المائدة: 3]، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن کو جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی جہاں یہ آیت نبی ﷺ پر نازل ہوئی، یہ آیت آپ ﷺ پر میدانِ عرفات میں جمعہ کے دن نازل ہوئی۔