السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التلبية يوم عرفة وقبله وبعده حتى يرمي جمرة العقبة باب: یومِ عرفہ کو، اس سے پہلے، اور اس کے بعد تلبیہ پڑھنے کا بیان یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارے۔
حدیث نمبر: 9447
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرِو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: " يَا سَعِيدُ مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟ " فَقُلْتُ: يَخَافُونَ مُعَاوِيَةَ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ: " لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ مُعَاوِيَةَ اللهُمَّ الْعَنْهُمْ فَقَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس عرفہ میں تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے سعید! کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو تلبیہ کہتے نہیں سنتا؟“ میں نے کہا: وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں، تو وہ اپنے خیمے سے نکلے اور فرمایا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں“، اگرچہ معاویہ کی ناک خاک آلود ہو جائے، اے اللہ! ان پر لعنت کر، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض کی وجہ سے سنت کو چھوڑ دیا ہے۔