السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التلبية يوم عرفة وقبله وبعده حتى يرمي جمرة العقبة باب: یومِ عرفہ کو، اس سے پہلے، اور اس کے بعد تلبیہ پڑھنے کا بیان یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارے۔
حدیث نمبر: 9446
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُهِلُّ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِيمَ الْإِهْلَالُ؟ قَالَ: وَهَلْ قَضَيْنَا نُسُكَنَا؟ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مزدلفہ میں تلبیہ کہتے سنا تو ان کو کہا: اے امیر المومنین! تلبیہ کہاں؟ انہوں نے کہا: کیا ہم نے مناسک ادا کر لیے ہیں؟