السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المفرد والقارن يكفيهما طواف واحد وسعي واحد بعد عرفة فإن كانا قد سعيا بعد طواف القدوم اقتصرا على الطواف بالبيت بعد عرفة وتحللا باب: حجِ افراد اور حجِ قران کرنے والوں کے لیے عرفہ کے بعد ایک طواف اور ایک سعی ہی کافی ہے، پس اگر انہوں نے طوافِ قدوم کے بعد سعی کر لی تھی تو وہ عرفہ کے بعد صرف بیت اللہ کے طواف پر اکتفا کریں اور حلال ہو جائیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا لَكِ تَبْكِينَ؟ " ⦗١٧٤⦘ قَالَتْ: أَبْكِي أَنَّ النَّاسَ حَلُّوا وَلَمْ أَحْلِلْ، وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ أَطُفْ وَهَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ثُمَّ حُجِّي"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَلَمَّا طَهُرْتُ، قَالَ: " طُوفِي بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ" فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ عُمْرَتِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ طُفْتُ حَتَّى حَجَجْتُ، فَقَالَ: " اذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیوں روتی ہے؟“ کہنے لگیں: روئی اس بات پر ہوں کہ لوگ حلال ہو گئے، میں حلال نہیں ہوئی؛ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور میں ابھی تک نہ کر سکی اور حج کا وقت آن پہنچا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جسے اللہ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کا تلبیہ کہہ، پھر حج کر۔“ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں پاک ہو گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر لے تو تو حج و عمرہ سے حلال ہو جائے گی۔“ تو کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے دل میں عمرہ کے بارے میں کچھ محسوس کرتی ہوں کہ میں نے حج کرنے سے پہلے طواف نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبدالرحمن! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا دے۔“