حدیث نمبر: 9351
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْبَشِيرِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: جِئْتُ مُسَلِّمًا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَصَحِبْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَتَّى دَخَلَ فِي الطَّوَافِ فَطَافَ ثَلَاثَةً رَمَلًا وَأَرْبَعَةً مَشْيًا، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَى الشِّقِّ الَّذِي عَلَى الصَّفَا فَلَبَّى فَقُلْتُ: إِنِّي نُهِيتُ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَقَالَ: " وَلَكِنْ آمُرُكَ بِهَا كَانَتِ التَّلْبِيَةُ اسْتِجَابَةً اسْتَجَابَهَا إِبْرَاهِيمُ " فَلَمَّا هَبَطَ إِلَى الْوَادِي سَعَى، فَقَالَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ " هَذَا أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ

مسروق کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر سلام کہتے ہوئے آیا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو لیا حتیٰ کہ طواف شروع کیا، تین طواف رمل اور چار چل کر کیے، پھر انہوں نے مقام کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں، پھر حجرِ اسود کی طرف گئے، بوسہ دیا، پھر صفا کی طرف چل نکلے اور صفا کے کنارے پر کھڑے ہوئے تو تلبیہ کہا، میں نے کہا: مجھے تلبیہ سے منع کیا گیا ہے، تو انہوں نے کہا: میں تجھے اس کا حکم دیتا ہوں، تلبیہ دعائے مقبول تھی جو ابراہیم کی قبول کی گئی، جب وہ وادی میں اترے تو سعی کی اور کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے اللہ! بخش دے اور رحم کر اور تو ہی عزت والا اور کرم والا ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9351
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن ابي شيبه 15570۔ 15571»