کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: صفا اور مروہ کی طرف نکلنے، ان کے درمیان سعی کرنے اور ان پر ذکر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9334
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا يَقُولُ: " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ " فَبَدَأَ بِالصَّفَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ سلمی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مسجد سے نکل کر صفا کی طرف جا رہے تھے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: «نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» ”ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے“۔ آپ ﷺ نے صفا سے ابتدا کی۔
حدیث نمبر: 9335
وَبِإِسْنَادِهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا كَبَّرَ ثَلَاثًا وَيَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَيَدْعُو، وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صفا پر ٹھہرتے تو تین مرتبہ تکبیر کہتے اور فرماتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ یہ تین مرتبہ کہتے اور دعا مانگتے اور مروہ پر بھی اسی طرح تین مرتبہ کرتے۔
حدیث نمبر: 9336
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا مَشَى حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ صفا سے اترتے تو چلتے، حتیٰ کہ جب آپ کے پاؤں وادی کے درمیان میں لگتے تو آپ سعی کرتے، حتیٰ کہ وہاں سے نکل جاتے۔
حدیث نمبر: 9337
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] أبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا رَأَى الْبَيْتَ فَكَبَّرَ اللهَ وَهَلَّلَهُ، وَقَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ "، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ وَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ رَمَلَ فِي بَطْنِ الْوَادِي حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى كَانَ آخِرُ الطَّوَافِ عَلَى الْمَرْوَةِ ⦗١٥٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: " يُحْيِي وَيُمِيتُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دروازے سے صفا کی طرف نکلے حتیٰ کہ جب صفا کے قریب ہوئے تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“، ”میں وہیں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے“، آپ ﷺ نے صفا سے شروع کیا اس پر چڑھے حتیٰ کہ جب بیت اللہ کو دیکھا تو تکبیر و تہلیل کہی اور فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ کے علاوہ اور کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حمد ہے اور اسی کے لیے بادشاہی ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے ہی تمام لشکروں کو شکست دی“۔ پھر اس کے درمیان دعا کی اور اس طرح تین مرتبہ کیا، پھر مروہ کی طرف آئے حتیٰ کہ جب آپ ﷺ کے پاؤں وادی میں لگے تو آپ ﷺ نے سعی کی حتیٰ کہ جب چڑھنے کو چلے اور مروہ پر آئے تو مروہ پر بھی ویسے ہی کیا جس طرح صفا پر کیا تھا، حتیٰ کہ طواف کا آخر مروہ پر تھا۔
حدیث نمبر: 9338
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قِصَّةِ فَتْحِ مَكَّةَ، قَالَ: وَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا فَعَلَا مِنْهُ حَتَّى يَرَى الْبَيْتَ، وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُوهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے واقعہ میں فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ داخل ہوئے، حجر اسود سے آغاز کیا، اس کو بوسہ دیا، پھر سات چکر لگائے، مقام کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں، پھر صفا پر چڑھے حتیٰ کہ بیت اللہ کو دیکھا اور اللہ کی حمد بیان کی اور دعا مانگی۔
حدیث نمبر: 9339
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ وَطَافَ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ تشریف لائے حتیٰ کہ حجرِ اسود کا استلام کیا، بیت اللہ کا طواف کیا، جب طواف سے فارغ ہوئے تو صفا پر چڑھے حتیٰ کہ بیت اللہ کو دیکھا، اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو چاہی دعا مانگی۔
حدیث نمبر: 9340
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَمْشِي إِذَا بَلَغَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ؟، قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ يُزَاحَمَ عَلَى الرُّكْنِ، فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَلِمَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکر تیز قدموں سے لگاتے اور چار آہستہ اور جب صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تو وادی میں دوڑتے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا عبداللہ جب رکن یمانی پر پہنچتے تھے تو چلتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ رکن پر بھیڑ ہو، کیونکہ وہ اس کو جب تک چھو نہ لیتے، چھوڑتے نہ تھے۔
حدیث نمبر: 9341
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ نَافِعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 9342
وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: السَّعْيُ مِنْ دَارِ بَنِي عَبَّادٍ إِلَى زُقَاقِ بَنِي أَبِي حُسَيْنٍ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهِيَارَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً
حدیث نمبر: 9343
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، قَالَ: إِذَا ⦗١٥٣⦘ قَدِمَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ حَاجًّا فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلْيُصَلِّ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لِيَبْدَأْ بِالصَّفَا فَيَسْتَقْبِلِ الْبَيْتَ، فَيُكَبِّرْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، بَيْنَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ حَمْدٌ لِلَّهِ وَثَنَاءٌ عَلَيْهِ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَأَلَ لِنَفْسِهِ وَعَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
وہب بن اجدع فرماتے ہیں کہ انہوں نے مکہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خطبہ دیتے سنا، انہوں نے کہا: جب تم میں سے کوئی حج کرنے کے لیے آئے تو بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور مقام کے پاس دو رکعتیں ادا کرے، پھر صفا سے آغاز کرے اور قبلہ رو ہو کر سات تکبیریں کہے اور ہر دو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمد و ثنا اور نبی ﷺ پر درود بھیجے اور اپنے لیے دعا کرے اور اسی طرح مروہ پر کرے۔
حدیث نمبر: 9344
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ لَهُ الْبَيْتُ، قَالَ: وَكَانَ يُكَبِّرُ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ، وَيَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "، وَيَصْنَعُ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَذَلِكَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ التَّكْبِيرِ وَسَبْعٌ مِنَ التَّهْلِيلِ ثُمَّ يَدْعُو فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَيَسْأَلُ اللهَ ثُمَّ يَهْبِطُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَطْنِ الْمَسِيلِ سَعَى حَتَّى يَظْهَرَ مِنْهُ ثُمَّ يَمْشِيَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَرْوَةَ فَيَرْقَى عَلَيْهَا، فَيَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ عَلَى الصَّفَا يَصْنَعُ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ سَعْيِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب صفا و مروہ کا طواف کرتے تو صفا سے آغاز فرماتے، اس پر چڑھتے حتیٰ کہ بیت اللہ نظر آتا اور تین تکبیرات کہتے اور کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کے لیے تعریفات ہیں اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے“ اور یہ کام سات مرتبہ کرتے تو یہ اکیس تکبیرات اور سات تہلیلات ہو گئیں، پھر اس کے درمیان دعا کرتے، اللہ سے سوال کرتے، پھر اترتے حتیٰ کہ وادی کے درمیان پہنچتے تو سعی کرتے حتیٰ کہ اس پر چڑھ جاتے، پھر چلتے ہوئے مروہ آتے، اس پر چڑھتے جس طرح صفا پر کیا تھا ویسا ہی کرتے، اس طرح سات مرتبہ کرتے حتیٰ کہ سعی سے فارغ ہو جاتے۔
حدیث نمبر: 9345
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ عَلَى الصَّفَا يَدْعُو وَيَقُولُ: " اللهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: ٦٠] وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي إِلَى الْإِسْلَامِ أَلَّا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا پر دعا کرتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [سورة غافر: 60]، وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ [سورة آل عمران: 194]، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي لِلْإِسْلَامِ أَنْ لَا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ» ”اے اللہ! تو نے فرمایا ہے: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [سورة غافر: 60] ”مجھے پکارو میں تمہاری قبول کروں گا“ اور ﴿إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾ [سورة آل عمران: 194] ”تو وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا“ اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے مجھے اسلام کی ہدایت دی ہے، تو اب یہ اسلام مجھ سے نہ چھیننا حتیٰ کہ میں اسلام پر ہی فوت ہو جاؤں۔“
حدیث نمبر: 9346
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عَلَى الصَّفَا: " اللهُمَّ اعْصِمْنَا بِدِينِكَ، وَطَوَاعِيَتِكَ وَطَوَاعِيَةِ رَسُولِكَ، وَجَنِّبْنَا حُدُودَكَ، اللهُمَّ اجْعَلْنَا نُحِبُّكَ وَنُحِبُّ مَلَائِكَتَكَ، وَأَنْبِيَاءَكَ، وَرُسُلَكَ وَنُحِبُّ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ، اللهُمَّ حَبِّبْنَا إِلَيْكَ، وَإِلَى مَلَائِكَتِكَ، وَإِلَى أَنْبِيَائِكَ وَرُسُلِكَ، وَإِلَى عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ، اللهُمَّ يَسِّرْنَا لِلْيُسْرَى وَجَنِّبْنَا الْعُسْرَى، وَاغْفِرْ لَنَا فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى، وَاجْعَلْنَا مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما صفا پر کہا کرتے تھے: اے اللہ! ہمیں اپنے دین اور اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ بچا کر رکھنا اور اپنی حدود سے دور رکھ۔ اے اللہ! ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم تیرے ساتھ، تیرے فرشتوں کے ساتھ، تیرے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ اور تیرے نیک بندوں کے ساتھ محبت کریں، اے اللہ! ہمیں اپنے، اپنے فرشتوں، رسولوں، نبیوں اور نیک بندوں کی طرف محبوب بنا دے، اے اللہ! ہمیں نیکی آسان کر دے اور برائی سے ہمیں بچا اور ہمیں دنیا و آخرت میں معاف فرما اور پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔
حدیث نمبر: 9347
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا صَدَقَةُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: هَلْ مِنْ قَوْلٍ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَلْزَمُهُ؟ قَالَ: لَا تَسْأَلْ عَنْ ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِوَاجِبٍ فَأَبَيْتُ أَنْ أَدَعَهُ حَتَّى يُخْبِرَنِي، قَالَ: كَانَ يُطِيلُ الْقِيَامَ حَتَّى لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْهُ لَجَلَسْنَا فَيُكَبِّرُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "، ثُمَّ يَدْعُو طَوِيلًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَيَخْفِضُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْأَلُهُ أَنْ يَقْضِيَ عَنْهُ مَغْرَمَهُ فِيمَا سَأَلَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ثُمَّ يَسْأَلُ طَوِيلًا كَذَلِكَ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي كُلِّ مَا حَجَّ وَاعْتَمَرَ ⦗١٥٤⦘.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے کہا: ”کیا کوئی ایسی بات ہے جسے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لازم پکڑتے تھے؟“ تو انہوں نے کہا: ”آپ اس بارے میں سوال نہ کریں، یہ واجب نہیں ہے“، تو میں نے انہیں اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک انہوں نے بتا نہیں دیا، انہوں نے کہا: ”وہ بہت لمبا قیام کرتے تھے، اگر ہمیں ان سے حیا نہ ہوتی تو ہم بیٹھ جاتے، وہ تین مرتبہ تکبیر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے پھر کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے“، پھر لمبی دعا کرتے اور آواز کو کبھی بلند اور کبھی پست کرتے یہاں تک کہ وہ سوال کرتے کہ اس کی چٹی پوری کر دے جو اس نے مانگا ہے، پھر تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ۔۔۔ الخ» ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔۔۔ الخ“ پھر اسی طرح لمبی دعا کرتے حتیٰ کہ یہ عمل سات مرتبہ دہراتے۔ صفا اور مروہ پر ہر حج و عمرہ میں ایسے ہی کرتے تھے“۔
حدیث نمبر: 9348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا صَدَقَةُ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 9349
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا شَاذَانُ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الصَّفَا: " اللهُمَّ أَحْيِنِي عَلَى سُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَوَفَّنِي عَلَى مِلَّتِهِ، وَأَعِذْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما صفا کے پاس آ کر کہتے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي عَلَى سُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ، وَتَوَفَّنِي عَلَى مِلَّتِهِ، وَأَعِذْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ» ”اے اللہ! مجھے اپنے نبی ﷺ کی سنت پر زندہ رکھ اور ان کی ملت (دین) پر موت دے اور گمراہ کن فتنوں سے بچا۔“
حدیث نمبر: 9350
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: قَامَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الصَّدْعِ الَّذِي فِي الصَّفَا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَا هُنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، فَقَالَ: " هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ اور اسود دونوں فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صفا کے کنارے پر کھڑے ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہاں؟ تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں، یہی اس شخص کا مقام ہے، جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 9351
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْبَشِيرِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: جِئْتُ مُسَلِّمًا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَصَحِبْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَتَّى دَخَلَ فِي الطَّوَافِ فَطَافَ ثَلَاثَةً رَمَلًا وَأَرْبَعَةً مَشْيًا، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَى الشِّقِّ الَّذِي عَلَى الصَّفَا فَلَبَّى فَقُلْتُ: إِنِّي نُهِيتُ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَقَالَ: " وَلَكِنْ آمُرُكَ بِهَا كَانَتِ التَّلْبِيَةُ اسْتِجَابَةً اسْتَجَابَهَا إِبْرَاهِيمُ " فَلَمَّا هَبَطَ إِلَى الْوَادِي سَعَى، فَقَالَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ " هَذَا أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر سلام کہتے ہوئے آیا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو لیا حتیٰ کہ طواف شروع کیا، تین طواف رمل اور چار چل کر کیے، پھر انہوں نے مقام کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں، پھر حجرِ اسود کی طرف گئے، بوسہ دیا، پھر صفا کی طرف چل نکلے اور صفا کے کنارے پر کھڑے ہوئے تو تلبیہ کہا، میں نے کہا: مجھے تلبیہ سے منع کیا گیا ہے، تو انہوں نے کہا: میں تجھے اس کا حکم دیتا ہوں، تلبیہ دعائے مقبول تھی جو ابراہیم کی قبول کی گئی، جب وہ وادی میں اترے تو سعی کی اور کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے اللہ! بخش دے اور رحم کر اور تو ہی عزت والا اور کرم والا ہے“۔
حدیث نمبر: 9352
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْحَرَّانِيَّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْ، وَأَنْتَ، أَوْ إِنَّكَ، الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا و مروہ کے درمیان یہ کہتے سنا: «رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے میرے رب! مجھے معاف کر دے اور رحم کر اور تو ہی عزت و کرم والا ہے۔“
حدیث نمبر: 9353
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَقُومُ فِي حَوْضٍ فِي أَسْفَلِ الصَّفَا وَلَا يَظْهَرُ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابونجیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے خبر دی، جس نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ صفا سے نچلے حوض میں کھڑے ہوئے اور اس پر نہ چڑھتے تھے۔