السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الخروج إلى الصفا والمروة، والسعي بينهما، والذكر عليهما باب: صفا اور مروہ کی طرف نکلنے، ان کے درمیان سعی کرنے اور ان پر ذکر کرنے کا بیان۔
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ عَلَى الصَّفَا يَدْعُو وَيَقُولُ: " اللهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: ٦٠] وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي إِلَى الْإِسْلَامِ أَلَّا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ ".نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا پر دعا کرتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [سورة غافر: 60]، وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ [سورة آل عمران: 194]، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي لِلْإِسْلَامِ أَنْ لَا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ» ”اے اللہ! تو نے فرمایا ہے: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [سورة غافر: 60] ”مجھے پکارو میں تمہاری قبول کروں گا“ اور ﴿إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾ [سورة آل عمران: 194] ”تو وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا“ اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے مجھے اسلام کی ہدایت دی ہے، تو اب یہ اسلام مجھ سے نہ چھیننا حتیٰ کہ میں اسلام پر ہی فوت ہو جاؤں۔“