حدیث نمبر: 9344
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ لَهُ الْبَيْتُ، قَالَ: وَكَانَ يُكَبِّرُ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ، وَيَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "، وَيَصْنَعُ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَذَلِكَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ التَّكْبِيرِ وَسَبْعٌ مِنَ التَّهْلِيلِ ثُمَّ يَدْعُو فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَيَسْأَلُ اللهَ ثُمَّ يَهْبِطُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَطْنِ الْمَسِيلِ سَعَى حَتَّى يَظْهَرَ مِنْهُ ثُمَّ يَمْشِيَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَرْوَةَ فَيَرْقَى عَلَيْهَا، فَيَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ عَلَى الصَّفَا يَصْنَعُ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ سَعْيِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب صفا و مروہ کا طواف کرتے تو صفا سے آغاز فرماتے، اس پر چڑھتے حتیٰ کہ بیت اللہ نظر آتا اور تین تکبیرات کہتے اور کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کے لیے تعریفات ہیں اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے“ اور یہ کام سات مرتبہ کرتے تو یہ اکیس تکبیرات اور سات تہلیلات ہو گئیں، پھر اس کے درمیان دعا کرتے، اللہ سے سوال کرتے، پھر اترتے حتیٰ کہ وادی کے درمیان پہنچتے تو سعی کرتے حتیٰ کہ اس پر چڑھ جاتے، پھر چلتے ہوئے مروہ آتے، اس پر چڑھتے جس طرح صفا پر کیا تھا ویسا ہی کرتے، اس طرح سات مرتبہ کرتے حتیٰ کہ سعی سے فارغ ہو جاتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9344
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»