السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الركنين اللذين يليان الحجر باب: ان دو رکنوں کا بیان جو حجر سے متصل ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِابَيْهِ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمَّا بَلَغْنَا الرُّكْنَيْنِ الْعَرَبِيَّيْنِ قُلْتُ: أَلَا تَسْتَلِمُ؟ وَصِرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَائِطِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْتُ: بَلَى قَالَ: أَفَرَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، انْفُذْ عَنْكَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَأَمَّا الْعِلَّةُ فِيهِمَا فَنَرَى أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَكَانَا كَسَائِرِ الْبَيْتِ.(الف) یعلی فرماتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کر رہا تھا، ہم مغربی رکنوں کے پاس پہنچے تو میں نے کہا: آپ ان کو کیوں نہیں چھوتے؟ اور میں ان کے اور دیوار کے درمیان حائل ہو گیا تو انہوں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو انہیں چھوتے دیکھا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: تو آپ کے لیے ﴿رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے﴾ [سورة الأحزاب: 21] اس کو ہی اپنائیے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں میں علت جو ہم دیکھتے ہیں یہ ہے کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا تو وہ دونوں بیت اللہ کی طرح ہو گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق سبب یہ ہے کہ بیت اللہ کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ کونے بھی بیت اللہ کی طرف ہیں۔