حدیث نمبر: 9237
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ اللَّيْثُ، ح أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا ⦗١٢٤⦘ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے بیت اللہ کے صرف دو یمانی رکنوں کو ہی چھوتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 9238
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو ہی چھوتے تھے۔
حدیث نمبر: 9239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن جریح نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صرف یمانی رکنوں کو ہی چھوتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو صرف یمانی ارکان کو ہی چھوتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 9240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یمانی رکنوں کے علاوہ اور کسی کو چھوتے نہیں دیکھا۔“
حدیث نمبر: 9241
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي عَلَى رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ الْيَمَانِيَّ، وَالْحَجَرَ "، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: " لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ مَهْجُورٌ " تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ قَتَادَةَ دُونَ قِصَّةِ مُعَاوِيَةَ، وَمِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، ⦗١٢٥⦘ وَرَوَاهُ أَبُو الشَّعْثَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَزَادَ قَالَ: وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَسْتَلِمُهُنَّ كُلَّهُنَّ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ يَدَّعِ أَحَدٌ اسْتِلَامَهُمَا هِجْرَةً لَبَيْتِ اللهِ وَلَكِنَّهُ اسْتَلَمَ مَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْسَكَ عَمَّا أَمْسَكَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو بیت اللہ کے جس کونے پر بھی آتے، اس کو چھوتے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو ہی چھوتے تھے۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ارکان میں کچھ بھی نہیں چھوڑا گیا ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی ایک نے بھی ان دونوں کا استلام بیت اللہ سے نقل مکانی کی وجہ سے نہیں چھوڑا، لیکن انہوں نے اس کا استلام کیا جس کا استلام رسول اللہ ﷺ نے کیا اور اس سے رک گئے جس سے رسول اللہ ﷺ رک گئے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی ایک نے بھی ان دونوں کا استلام بیت اللہ سے نقل مکانی کی وجہ سے نہیں چھوڑا، لیکن انہوں نے اس کا استلام کیا جس کا استلام رسول اللہ ﷺ نے کیا اور اس سے رک گئے جس سے رسول اللہ ﷺ رک گئے۔
حدیث نمبر: 9242
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِابَيْهِ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمَّا بَلَغْنَا الرُّكْنَيْنِ الْعَرَبِيَّيْنِ قُلْتُ: أَلَا تَسْتَلِمُ؟ وَصِرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَائِطِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْتُ: بَلَى قَالَ: أَفَرَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، انْفُذْ عَنْكَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَأَمَّا الْعِلَّةُ فِيهِمَا فَنَرَى أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَكَانَا كَسَائِرِ الْبَيْتِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) یعلی فرماتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کر رہا تھا، ہم مغربی رکنوں کے پاس پہنچے تو میں نے کہا: آپ ان کو کیوں نہیں چھوتے؟ اور میں ان کے اور دیوار کے درمیان حائل ہو گیا تو انہوں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ طواف نہیں کیا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو انہیں چھوتے دیکھا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: تو آپ کے لیے ﴿رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے﴾ [سورة الأحزاب: 21] اس کو ہی اپنائیے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں میں علت جو ہم دیکھتے ہیں یہ ہے کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا تو وہ دونوں بیت اللہ کی طرح ہو گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق سبب یہ ہے کہ بیت اللہ کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ کونے بھی بیت اللہ کی طرف ہیں۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں میں علت جو ہم دیکھتے ہیں یہ ہے کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا تو وہ دونوں بیت اللہ کی طرح ہو گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق سبب یہ ہے کہ بیت اللہ کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ کونے بھی بیت اللہ کی طرف ہیں۔
حدیث نمبر: 9243
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا إِلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ " فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیری قوم نے جب کعبہ بنایا تو انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے اس کو کم کر دیا؟“ تو وہ کہنے لگیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! تو آپ اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر واپس کیوں نہیں لوٹا دیتے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم کفر کو نئی نئی چھوڑنے والی نہ ہوتی تو میں کر دیتا۔“ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ ﷺ نے اسی وجہ سے حجرِ اسود کے ساتھ والے ارکان کو چھونا ترک کیا ہے کہ اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا۔