حدیث نمبر: 9241
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي عَلَى رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ الْيَمَانِيَّ، وَالْحَجَرَ "، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: " لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ مَهْجُورٌ " تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ قَتَادَةَ دُونَ قِصَّةِ مُعَاوِيَةَ، وَمِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، ⦗١٢٥⦘ وَرَوَاهُ أَبُو الشَّعْثَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَزَادَ قَالَ: وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَسْتَلِمُهُنَّ كُلَّهُنَّ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ يَدَّعِ أَحَدٌ اسْتِلَامَهُمَا هِجْرَةً لَبَيْتِ اللهِ وَلَكِنَّهُ اسْتَلَمَ مَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْسَكَ عَمَّا أَمْسَكَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو بیت اللہ کے جس کونے پر بھی آتے، اس کو چھوتے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو ہی چھوتے تھے۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ارکان میں کچھ بھی نہیں چھوڑا گیا ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی ایک نے بھی ان دونوں کا استلام بیت اللہ سے نقل مکانی کی وجہ سے نہیں چھوڑا، لیکن انہوں نے اس کا استلام کیا جس کا استلام رسول اللہ ﷺ نے کیا اور اس سے رک گئے جس سے رسول اللہ ﷺ رک گئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9241
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد 4/ 94۔ طبراني كبير 16036»