السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: لا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج باب: حج میں نہ کوئی فحش بات ہے، نہ گناہ کا کام اور نہ ہی لڑائی جھگڑا۔
حدیث نمبر: 9173
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِالْإِبِلِ وَهُوَ يَقُولُ: ⦗١٠٨⦘ وَهُنَّ يَمْشِيَنَّ بِنَا هَمِيسَا قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ أَتَرْفُثُ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ سَقَطَ مِنْ هَذَا الْمِصْرَاعُ الْآخَرُ وَهُوَ: إنْ تَصْدُقِ الطَّيْرُ نَنِكْ لَمِيسَا ذَكَرَهُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ عَنِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا جبکہ وہ محرم تھے اور وہ اونٹوں کے لیے رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اور وہ ہمارے ساتھ بھنبھناتی ہوئی چل رہی ہیں۔ اگر پرندے نے سچ کہا تو ہم جماع کریں گے۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ حالتِ احرام میں رفث کریں گے؟ تو کہنے لگے کہ «الرَّفَثُ مَا قُصِدَ بِهِ النِّسَاءُ» ”رفث وہ ہے جس سے عورتیں قصد کی جائیں۔“