کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حج میں نہ کوئی فحش بات ہے، نہ گناہ کا کام اور نہ ہی لڑائی جھگڑا۔
حدیث نمبر: 9168
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفِرْيَابِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس گھر کا حج کیا اور جماع نہ کیا اور گناہ والا کام بھی نہ کیا تو وہ اس دن کی طرح لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 9169
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: الرَّفَثُ الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ مَا أُصِيبَ مِنْ مَعَاصِي اللهِ مِنْ صَيْدٍ وَغَيْرِهِ، وَالْجِدَالُ السِّبَابُ وَالْمُنَازَعَةُ وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْكِتَابِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: الرَّفَثُ الْجِمَاعُ وَالْفُسُوقُ الْمَعَاصِي وَالْجِدَالُ الْمِرَاءُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «رَفَث» کا معنی ہے جماع، اور «فُسُوق»: شکار کرنا یا دیگر گناہ اور «جِدَال»: سب و شتم اور جھگڑا۔
حدیث نمبر: 9170
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الرَّفَثُ الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ السِّبَابُ، وَالْجِدَالُ أَنْ تُمَارِيَ صَاحِبَكَ حَتَّى تُغْضِبَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «الرَّفَثُ» ”جماع“ ہے، «الْفُسُوقُ» ”گالیاں“ ہیں اور «الْجِدَالُ» یہ ہے کہ ”تو اپنے ساتھی سے اتنا جھگڑے کہ اس کو غصہ دلا دے۔“ [سورة البقرة: 197]
حدیث نمبر: 9171
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ} [البقرة: ١٩٧] قَالَ: الرَّفَثُ: التَّعَرُّضُ لِلنِّسَاءِ بِالْجِمَاعِ، وَالْفُسُوقُ: عِصْيَانُ اللهِ، وَالْجِدَالُ جِدَالُ النَّاسِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾ [سورة البقرة: 197] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «رَفَثٌ» عورتوں سے جماع ہے اور «فُسُوقٌ» اللہ کی نافرمانی اور «جِدَالٌ» لوگوں سے جھگڑا ہے۔
حدیث نمبر: 9172
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِلْحَرَامِ الْإِعْرَابُ، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا الْإِعْرَابُ؟ قَالَ: التَّعَرُّضُ يَعْنِي بِالْجِمَاعِ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محرم کے لیے «الْإِعْرَابُ» ”اعراب“ حلال نہیں، تو میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: «الْإِعْرَابُ» ”اعراب“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”جماع“۔
حدیث نمبر: 9173
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِالْإِبِلِ وَهُوَ يَقُولُ: ⦗١٠٨⦘ وَهُنَّ يَمْشِيَنَّ بِنَا هَمِيسَا قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ أَتَرْفُثُ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ سَقَطَ مِنْ هَذَا الْمِصْرَاعُ الْآخَرُ وَهُوَ: إنْ تَصْدُقِ الطَّيْرُ نَنِكْ لَمِيسَا ذَكَرَهُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا جبکہ وہ محرم تھے اور وہ اونٹوں کے لیے رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اور وہ ہمارے ساتھ بھنبھناتی ہوئی چل رہی ہیں۔ اگر پرندے نے سچ کہا تو ہم جماع کریں گے۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ حالتِ احرام میں رفث کریں گے؟ تو کہنے لگے کہ «الرَّفَثُ مَا قُصِدَ بِهِ النِّسَاءُ» ”رفث وہ ہے جس سے عورتیں قصد کی جائیں۔“
حدیث نمبر: 9174
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، أنبأ عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَزَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَجَعَلَ يَسُوقُهَا وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَهُوَ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ
حصین فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی اونٹنی سے اترے اور اس کو رجزیہ اشعار پڑھ کر چلانے لگے اور کہہ رہے تھے: اور وہ ہمارے ساتھ بھنبھناتی ہوئی چل رہیں، اگر پرندے نے سچ کہا تو ہم جماع کریں گے۔ انہوں نے جماع کا ذکر فرمایا اور کنایہ نہیں کیا تو میں نے کہا: اے ابن عباس! آپ «رَفَث» کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ محرم ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: «رَفَث» وہ ہے جس کے ذریعہ عورتوں کی طرف رجوع کیا جائے۔
حدیث نمبر: 9175
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا سَمِعَ الْحَادِيَ قَالَ: لَا تُعَرِّضْ بِذِكْرِ النِّسَاءِ وَكَذَا قَالَهُ وَكِيعٌ، وَالزُّبَيْرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب حدی خواں کو سنتے تو فرماتے: عورتوں کے ذکر سے تعریض نہ کر۔
حدیث نمبر: 9176
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَنْهَى أَنْ يُعَرِّضَ الْحَادِي بِذِكْرِ النِّسَاءِ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ، وَجَمَاعَةٌ فَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما منع فرماتے تھے کہ حدی خواں عورتوں کے ذکر سے تعریض کرے جب کہ وہ محرم ہو۔