السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: لا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج باب: حج میں نہ کوئی فحش بات ہے، نہ گناہ کا کام اور نہ ہی لڑائی جھگڑا۔
حدیث نمبر: 9172
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِلْحَرَامِ الْإِعْرَابُ، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا الْإِعْرَابُ؟ قَالَ: التَّعَرُّضُ يَعْنِي بِالْجِمَاعِ.حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محرم کے لیے «الْإِعْرَابُ» ”اعراب“ حلال نہیں، تو میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: «الْإِعْرَابُ» ”اعراب“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”جماع“۔