السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار التمتع بالعمرة إلى الحج، وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان متمتعا، أو تأسف عليه، ولا يتأسف إلا على ما هو أفضل باب: ان کا بیان جنہوں نے عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ متمتع تھے، یا آپ ﷺ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا، اور افسوس صرف اسی چیز پر کیا جاتا ہے جو زیادہ افضل ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ لِخَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا وَهُوَ غَضْبَانُ، قُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَدْخَلَهُ اللهُ النَّارَ، قَالَ: " أَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ؟ "، قَالَ: الْحَكَمُ كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسَبُ قَالَ: " وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلَّ كَمَا حَلُّوا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَمُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ.ابوجمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حجِ تمتع کرنے کی نیت کی تو لوگوں نے مجھے منع کر دیا، تو میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے مجھے تمتع کرنے کا کہا، پھر میں نے خواب میں ایک آدمی کو دیکھا وہ مجھے کہہ رہا تھا: ”حج و عمرہ قبول کیا گیا ہے“، تو یہ بات میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ!» ”یہ نبی ﷺ کی سنت ہے“۔ ابوجمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میرے پاس آؤ میں اپنے مال کا کچھ حصہ تجھے دوں گا“، شعبہ رحمہ اللہ نے کہا کہ انہوں نے یہ بات کیوں کی؟ تو میں نے کہا کہ اس خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھا تھا۔