❮
❯
حدیث نمبر: 8865
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ لِخَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا وَهُوَ غَضْبَانُ، قُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَدْخَلَهُ اللهُ النَّارَ، قَالَ: " أَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ؟ "، قَالَ: الْحَكَمُ كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسَبُ قَالَ: " وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلَّ كَمَا حَلُّوا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَمُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ذوالحجہ کی چار یا پانچ تاریخ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ پہنچے تو ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو کس نے غصہ دلایا ہے؟ اللہ اس کو جہنم رسید کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا ہے اور وہ اس میں متردد ہیں۔“ حکم کہتے ہیں کہ گویا کہ وہ ڈر گئے، میں سمجھتا ہوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اس بات کا علم پہلے ہوجاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا بلکہ یہیں سے خریدتا اور اسی طرح حلال ہوجاتا جس طرح یہ حلال ہوئے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8865
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1492۔ مسلم 1242»