السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار التمتع بالعمرة إلى الحج، وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان متمتعا، أو تأسف عليه، ولا يتأسف إلا على ما هو أفضل باب: ان کا بیان جنہوں نے عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ متمتع تھے، یا آپ ﷺ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا، اور افسوس صرف اسی چیز پر کیا جاتا ہے جو زیادہ افضل ہو۔
حدیث نمبر: 8866
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَمَرَنِي بِهَا، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَجُلًا يَقُولُ لِي: حَجٌّ مَبْرُورٌ وَعُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ أَبُو جَمْرَةَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَقِمْ عِنْدِي وَأَجْعَلُ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي "، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: وَلِمَ قَالَ لَكَ ذَلِكَ؟، فَقَالَ: لِلرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ذوالحجہ کی چار یا پانچ تاریخ کو مکہ پہنچے تو ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں نے پوچھا: آپ ﷺ کو کس نے غصہ دلایا ہے؟ اللہ اس کو جہنم رسید کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا ہے اور وہ اس میں متردد ہیں۔“ حکم کہتے ہیں کہ گویا کہ وہ ڈر گئے، میں سمجھتا ہوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اس بات کا علم پہلے ہوجاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا بلکہ یہیں سے خریدتا اور اسی طرح حلال ہوجاتا جس طرح یہ حلال ہوئے۔“