السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار التمتع بالعمرة إلى الحج، وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان متمتعا، أو تأسف عليه، ولا يتأسف إلا على ما هو أفضل باب: ان کا بیان جنہوں نے عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ متمتع تھے، یا آپ ﷺ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا، اور افسوس صرف اسی چیز پر کیا جاتا ہے جو زیادہ افضل ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَمَرَنِي بِهَا، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَجُلًا يَقُولُ لِي: حَجٌّ مَبْرُورٌ وَعُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ أَبُو جَمْرَةَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَقِمْ عِنْدِي وَأَجْعَلُ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي "، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: وَلِمَ قَالَ لَكَ ذَلِكَ؟، فَقَالَ: لِلرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.ابوجمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حجِ تمتع کیا تو لوگوں نے مجھے منع کیا، تو میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے مجھے تمتع کرنے کا کہا، پھر میں نے خواب میں دیکھا گویا ایک آدمی مجھے کہہ رہا ہے: ”حجِ مبرور اور مقبول عمرہ“، تو یہ بات میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ!» ”یہ نبی ﷺ کی سنت ہے“۔ ابوجمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میرے پاس ٹھہرو، میں اپنے مال میں سے تمہارا ایک حصہ مقرر کروں گا“، شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: انہوں نے آپ سے یہ بات کیوں کہی؟ تو انہوں نے کہا: اس خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھا تھا۔