السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار التمتع بالعمرة إلى الحج، وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان متمتعا، أو تأسف عليه، ولا يتأسف إلا على ما هو أفضل باب: ان کا بیان جنہوں نے عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ متمتع تھے، یا آپ ﷺ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا، اور افسوس صرف اسی چیز پر کیا جاتا ہے جو زیادہ افضل ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فِي أُنَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهَلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا بَعْدَ أَنْ قَدِمَ أَنْ نَحِلَّ، فَقَالَ: " أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ " قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يُعَزِّمْ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبُوا النِّسَاءَ، وَلَكِنَّهُ أَحلَّهُنَّ لَهُمْ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ ⦗٢٧⦘ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِيَ عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَنِيَّ، قَالَ: وَيَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى قَوْلِهِ بِيَدِهِ يُحرِّكُهَا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، فَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَأَحْلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، فَحَلُّوا "، قَالَ: فَأَحْلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ سِعَايَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَا أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا "، قَالَ: فَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَدْيًا، قَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟، قَالَ: " بَلْ لِأَبَدٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَمِنْ حَدِيثِ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَاءٍ.عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے ساتھ کے لوگوں میں میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم اصحابِ رسول نے خالصتاً حج کا تلبیہ کہا، تو ذوالحجہ کی چوتھی صبح نبی ﷺ تشریف لائے اور آنے کے بعد آپ ﷺ نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”حلال ہو جاؤ اور عورتوں سے حاجت پوری کرو۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورتوں سے حاجت پوری کرنا ان پر فرض قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ مباح کیا گیا تھا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو ہمارے بارے میں یہ بات پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور آپ ﷺ نے ہمیں حلال ہونے اور عورتوں کے پاس جانے کا کہہ دیا ہے، تو کیا ہم عرفہ میں اس حالت میں پہنچیں گے کہ ہمارے ذکر منی کے قطرے بہا رہے ہوں گے؟ تو نبی ﷺ ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور زیادہ سچا اور زیادہ نیک ہوں، اور اگر میں قربانی ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی تمہاری طرح حلال ہو جاتا، اور اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا، لہٰذا تم حلال ہو جاؤ۔“ کہتے ہیں کہ ہم حلال ہو گئے، ہم نے بات سنی اور اطاعت کر لی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے کام سے واپس آئے تو ان کو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کیا تلبیہ کہا تھا؟“ تو وہ کہنے لگے کہ جو نبی ﷺ نے کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس تو قربانی کرنا اور حرام ہی رہ۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے قربانی کی، سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا یہ فائدہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“