السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على طهارة عرق الحائض والجنب باب: حائضہ اور جنبی کے پسینے کے پاک ہونے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيُّ، بِحَلَبَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدِ الرَّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ رَجُلٍ يُدْخِلُ يَدَهُ الْإِنَاءَ وَهُوَ جُنُبٌ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ فَقَالَتْ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، وَلَكِنْ لِيَبْدَأْ فَيَغْسِلْ يَدَهُ قَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنا ہاتھ برتن میں داخل کرتا ہے اور وہ جنبی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی اور وہ پہلے اپنا ہاتھ دھوئے، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل کرتے تھے۔“