السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل يؤاجر نفسه من رجل يخدمه ثم يهل بالحج معه أو يكري جماله ثم يحج فيجزئه حجه. باب: اس شخص کا بیان جو خود کو کسی کی خدمت کے لیے اجرت پر دے پھر اس کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے، یا اپنے اونٹ کرائے پر دے پھر حج کرے تو اس کا حج اسے کفایت کر جائے گا۔
حدیث نمبر: 8656
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ الضُّبَعِيُّ إِمْلَاءً، ثنا اللَّبَّادُ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنِّي أَكْرَيْتُ نَفْسِي إِلَى الْحَجِّ وَاشْتَرَطْتُ عَلَيْهِمْ أَنْ أَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنِّي؟ قَالَ: " أَنْتَ مِنَ الذِّينَ قَالَ اللهُ {أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [البقرة: ٢٠٢] " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں حاجیوں کی مزدوری کرتا ہوں اور ان کے ساتھ شرط لگاتا ہوں، میں حج کروں گا تو کیا یہ مجھے کفایت کر جائے گا؟ تو انہوں نے فرمایا: تو ان لوگوں میں سے ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [سورة البقرة: 202] ”ان کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔“