السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل يؤاجر نفسه من رجل يخدمه ثم يهل بالحج معه أو يكري جماله ثم يحج فيجزئه حجه. باب: اس شخص کا بیان جو خود کو کسی کی خدمت کے لیے اجرت پر دے پھر اس کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے، یا اپنے اونٹ کرائے پر دے پھر حج کرے تو اس کا حج اسے کفایت کر جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، ثنا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا أُكْرِي مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي رَجُلٌ أُكْرِي فِي هَذِهِ الْأَوْجُهِ وَإِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَكَ حَجٌّ، فَقَالَ: أَلَسْتَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى قَالَ: فَإِنَّ لَكَ حَجًّا، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: ١٩٨] فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَيْهِ وَقَالَ: " لَكَ حَجٌّ ".سیدنا ابوامامہ تمیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کرائے پر لوگوں کی خدمت کرتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تیرا حج نہیں ہے، میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملا اور میں نے کہا کہ میں کرائے پر لوگوں کے یہ کام کرتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ تیرا حج نہیں ہے، تو انہوں نے فرمایا: کیا تو احرام نہیں باندھتا اور تلبیہ، طواف اور عرفات سے لوٹنا اور رمیِ جمار نہیں کرتا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو پھر تیرا حج ہے۔ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس نے بھی ویسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا ہے تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور اس کو جواب نہ دیا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] ”تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو“ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو یہ آیتیں سنائیں اور فرمایا کہ ”تیرا حج ہے۔“