السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الرجل يؤاجر نفسه من رجل يخدمه ثم يهل بالحج معه أو يكري جماله ثم يحج فيجزئه حجه. باب: اس شخص کا بیان جو خود کو کسی کی خدمت کے لیے اجرت پر دے پھر اس کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے، یا اپنے اونٹ کرائے پر دے پھر حج کرے تو اس کا حج اسے کفایت کر جائے گا۔
حدیث نمبر: 8655
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: أُؤَاجِرُ نَفْسِي مِنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَأَنْسَكُ مَعَهُمُ الْمَنَاسِكَ أَلِيَ أَجْرٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ {أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [البقرة: ٢٠٢].حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ میں ان لوگوں سے اجرت لیتا ہوں اور ان کے ساتھ حج کرتا ہوں، تو کیا میرے لیے بھی اجر ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں، ﴿ان لوگوں کے لیے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے﴾ [سورة البقرة: 202]۔