حدیث نمبر: 862
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِعُمْرَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَيْضِهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أَطْهُرْ بَعْدُ، وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِالْعُمْرَةِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ " فَقَالَتْ: فَفَعَلْتُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَهِيَ أَنِ اغْتَسَلَتْ لِلْإِهْلَالِ بِالْحَجِّ وَكَانَ غُسْلُهَا غُسْلًا مَسْنُونًا وَقَدْ أُمِرَتْ فِيهِ بِنَقْضِ رَأْسِهَا وَامْتِشَاطِ شَعْرِهَا وَكَأَنَّهَا أُمِرَتْ بِذَلِكَ اسْتِحْبَابًا كَمَا أُمِرَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِالْغُسْلِ لِلْإِهْلَالِ عَلَى النِّفَاسِ اسْتِحْبَابًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرے کا احرام باندھا، پھر وہ اپنے حیض والی حدیث بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ عرفہ کا دن ہے میں اس کے بعد پاک نہیں ہوئی، میں نے عمرے سے فائدہ اٹھایا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے اور کنگھی کر اور حج کا احرام باندھ اور عمرے سے رک جا۔“ انہوں نے کہا: میں نے ایسے ہی کیا۔
(ب) ان کا غسل حج کے تلبیہ کے لیے تھا اور غسل مسنون تھا، اس میں انہیں سر کھولنے اور کنگھی کرنے کا حکم مستحب تھا۔ جیسے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو نفاس میں غسل کا حکم مستحب تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 862
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 310»