السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: إثبات فرض الحج على من استطاع إليه سبيلا وكان حرا بالغا عاقلا مسلما باب: جو اس (خانہ کعبہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اور وہ آزاد، بالغ، عاقل اور مسلمان ہو اس پر حج کی فرضیت ثابت ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي كِتَابِ مَعْرِفَةِ الْحَدِيثِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ وَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَأْتِيَهُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ: " صَدَقَ " قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ، قَالَ: " اللهُ " قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: " اللهُ " قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ؟ قَالَ: " اللهُ " قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ؟ قَالَ: " اللهُ " قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، قَالَ: " صَدَقَ " قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَدَقَةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ: " صَدَقَ " قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي سَنَتِنَا، قَالَ: " صَدَقَ " قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: " صَدَقَ "، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ، فَلَمَّا مَضَى، قَالَ: " لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ ". ⦗٥٣٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ أَبِي النَّضْرِ هَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے کسی بھی چیز کا سوال کرنے سے منع کیا جاتا تھا اور ہم یہ چاہتے تھے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی شخص آئے اور وہ سوال کرے اور ہم سنیں، تو ایک شخص انہیں میں سے آیا اور اس نے کہا: اے محمد ﷺ! ہمارے پاس آپ ﷺ کا قاصد آیا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ آپ ﷺ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس بدوی نے کہا: آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے کہا کہ یہ پہاڑ کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے کہا: تو ان میں یہ فائدے کس نے رکھے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ تو اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، پہاڑوں کو نصب کیا اور ان میں فوائد رکھے، کیا اللہ نے نبی ﷺ کو بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا آپ ﷺ کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا کہ آپ کے قاصد نے یہ سمجھا ہے کہ ہمارے ذمہ ہمارے مالوں کا صدقہ بھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج بیت اللہ فرض ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ تو وہ کہنے لگا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں ان میں نہ تو کمی کروں گا، نہ اضافہ۔ جب وہ چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں جائے گا۔“