حدیث نمبر: 8610
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِيلَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ " قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ جَبْرَائِيلُ أَتَاكُمْ يعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ كَهْمَسٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انتہائی سیاہ بالوں اور بہت ہی سفید کپڑوں والا شخص نمودار ہوا، اس پر نہ تو سفر کے آثار تھے اور نہ ہی ہم اس کو جانتے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھا، پھر کہا: ”اے محمد ﷺ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے کہ اسلام کیا ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔“ تو اس آدمی نے کہا کہ آپ سچ فرماتے ہیں (اس ساری حدیث کو ذکر کیا)۔ پھر کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تو جانتا ہے، یہ سائل کون تھا؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8610
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 8، نسائي4990»