حدیث نمبر: 8559
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ وَعِنْدَهُ أَصْحَابُهُ فَسَأَلَهُمْ فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا "، أِيُّ لَيْلَةٍ تَرَوْنَهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةُ إِحْدَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةُ خَمْسٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةُ سَبْعٍ، فَقَالُوا وَأَنَا سَاكِتٌ، فَقَالَ مَا لَكَ لَا تَكَلَّمُ؟ فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ لَا أَتَكَلَّمَ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا، فَقَالَ: مَا أَرْسَلْتُ إِلَيْكَ إِلَّا لِتَكَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللهَ يَذْكُرُ السَّبْعَ فَذَكَرَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ سَبْعِ، وَنَبْتُ الْأَرْضِ سَبْعٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، هَذَا أَخْبَرْتَنِي مَا أَعْلَمُ أَرَأَيْتَ مَا لَمْ أَعْلَمْ قَوْلَكَ نَبْتُ الْأَرْضِ سَبْعٌ، قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا} [عبس: ٢٧]، قَالَ فَالْحَدَائِقُ الْغُلْبُ الْحِيطَانُ مِنَ النَّخْلِ وَالشَّجَرِ، {وَفَاكِهَةً وَأَبًّا} [عبس: ٣١]، قَالَ: فَالْأَبُّ مَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ مِمَّا تَأْكُلُهُ الدَّوَابُّ وَالْأَنْعَامُ وَلَا يَأْكُلُهُ النَّاسُ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَصْحَابِهِ: أَعَجِزْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي لَمْ تَجْتَمِعْ شُئُونُ رَأْسِهِ، إِنِّي وَاللهِ لَأَرَى الْقَوْلَ كَمَا قُلْتَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کے پاس دیگر ساتھی بھی تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ لیلۃ القدر کے بارے میں جو رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ «الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا» ”اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو“ تم کون سی رات سمجھتے ہو؟ تو ان میں سے بعض نے کہا: پہلی رات، اور بعض نے کہا: تیسری رات، اور ان میں سے بعض نے کہا: پانچویں رات، اور بعض نے کہا: ساتویں رات۔ اور میں خاموش تھا، تو انہوں نے کہا: تو کیوں خاموش ہے، کلام کیوں نہیں کرتا؟ میں نے کہا: آپ نے مجھے کہا تھا کہ جب تک وہ کلام کریں میں کلام نہ کروں۔ انہوں نے کہا: میں نے پیغام اس لیے بھیجا تھا کہ تو بھی کلام کرے۔ میں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سات کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ سات آسمان ہیں اور ایسی ہی سات زمینیں، اور انسان بھی سات ہی چیزوں پر بنایا گیا ہے، اور زمین کی پیداوار بھی سات اقسام میں ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ جو آپ نے خبر دی ہے میں نہیں جانتا، لہٰذا مجھے بتاؤ یہ بات کہ زمین کی پیداوار سات ہیں وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّا شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا * فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا * وَعِنَبًا وَقَضْبًا * وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا * وَحَدَائِقَ غُلْبًا﴾ [سورة عبس: 26-30]، «حَدَائِقَ غُلْبًا» سے مراد کھجوروں کے باغات ہیں، اور درختوں ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [سورة عبس: 31] سے «الْأَبُّ» سے مراد وہ ہے جب زمین اگاتی ہے اور جانور و چوپائے کھاتے ہیں، انسان نہیں کھاتا۔ وہ کہتے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنے ساتھیوں کی بات سے عاجز آ چکے ہو اور لاجواب ہو چکے ہو کہ تم بھی ایسی بات کہتے جو اس بچے نے کہی ہے جس کے دماغ کی شریانیں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ اللہ کی قسم! میں بھی یہی خیال کرتا ہوں جو اس کا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8559
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابن خزيمه»