حدیث نمبر: 8558
وَأَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا ⦗٥١٥⦘ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " دَعَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأَجْمَعُوا أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَقُلْتُ لِعُمَرَ إِنِّي لَأَعْلَمُ وَإِنِّي لَأَظُنُّ أِيَّ لَيْلَةٍ هِيَ "، قَالَ وَأِيُّ لَيْلَةٍ هِيَ؟ قُلْتُ: " سَابِعَةٌ تَمْضِي أَوْ سَابِعَةٌ تَبْقَى مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ "، قَالَ: وَمِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ؟ قَالَ: قُلْتُ: " خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَسَبْعَ أَرَضِينَ وَسَبْعَةَ أَيَّامٍ وَأَنَّ الدَّهْرَ يَدُورُ فِي سَبْعٍ وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ فَيَأْكُلُ وَيَسْجُدُ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ، وَالطَّوَافُ سَبْعٌ، وَالْجِبَالُ سَبْعٌ "، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَقَدْ فَطِنْتَ لِأَمْرٍ مَا فَطِنَّا لَهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب النبی ﷺ کو بلایا اور ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا تو ان سب نے اتفاق کیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا خیال ہے میں جانتا ہوں کہ وہ رات کون سی ہے، تو انہوں نے پوچھا: وہ کون سی رات ہے؟ میں نے کہا: یہ آخری عشرے سے سات گزر جائیں یا سات رہ جائیں۔ انہوں نے پوچھا: تو کیسے جانتا ہے؟ تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور سات زمینیں اور سات دن بنائے اور سال بھی سات ہی میں پھرتا ہے کہ انسان پیدا کیا گیا، وہ کھاتا ہے اور سجدہ کرتا ہے سات اعضاء پر ہی اور طواف بھی سات ہیں اور پہاڑ بھی سات، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے وہ بات سمجھی جو ہم نہ سمجھے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8558
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»